بنگلورو30؍ستمبر(ایس او نیوز)کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے تازہ حکم کی ریاست کے سرکردہ سیاسی رہنماؤں نے سخت الفاظ میں مذمت کی اور اس سلسلے میں مرکزی حکومت کی طرف سے اپنائے گئے جانبدارانہ رویہ کو غلط قرار دیا۔سابق وزیراعظم اور جنتادل (ایس) کے قومی صدر ایچ ڈی دیوے گوڈا نے آج سپریم کورٹ کی طرف سے کرناٹک کو دوبارہ کاویری کا پانی تملناڈو کو فراہم کرنے کے سلسلے میں سنائے گئے احکامات کو افسوسناک اور ناقابل عمل قرار دیا۔ساتھ ہی عدالت عظمیٰ کی طرف سے کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے کے فیصلے کو بھی کرناٹک پر ایک ناقابل برداشت وار قرار دیا۔ دیوے گوڈا نے کہاکہ پہلے ہی انہوں نے ریاستی حکومت کو متنبہ کیاتھاکہ کرناٹک کو سپریم کورٹ کی موجودہ بنچ سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ آج سپریم کورٹ میں کاویری معاملے پر سماعت کے دوران ریاست کے وکیل فالی ایس ناریمن کی خاموشی پر بھی انہوں نے افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے کہاکہ دریائے کاویری کے پانی کو عوام کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے استعمال میں لانے حکومت کی طرف سے جو بھی قدم اٹھایا جائے گا جنتادل (ایس) اس کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہاکہ کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں قطعی سماعت 18؍ اکتوبر کو ہونے والی ہے۔ کم از کم اس وقت تک سپریم کورٹ کو کاویری نگرانی بورڈ کے متعلق فیصلہ سنانے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے بھی کاویری مسئلے پر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کو کرناٹک کے حق میں ایک کاری وار قرار دیتے ہوئے کہاکہ کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے کے متعلق سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔ یڈیورپا نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا سے انہوں نے پہلے ہی کہاتھاکہ کاویری معاملے پر فی الوقت سپریم کورٹ کی جو بنچ سنوائی کررہی ہے اس سے ریاست کو انصاف کی امید بہت کم ہے۔ انہوں نے حکومت سے گذارش کی تھی کہ معاملے پر آئینی بنچ سے رجوع کیا جائے۔ اس وقت رجوع کرنے کی بجائے وزیر اعلیٰ سدرامیا اب آئینی بنچ سے رجوع ہونے کی بات کررہے ہیں۔ اس دوران کاویری احتجاج کی قیادت کررہے کنڑا چلوولی واٹال پکشا کے لیڈر واٹال ناگراج نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کرناٹک کے حق میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موت کا فرمان ہے۔ کسی بھی حال میں کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کو منظور نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے ریاست کے تمام اراکین پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے وہ اپنی پارلیمانی رکنیت سے استعفیٰ دے دیں۔ مرکزی وزیر برائے آبی وسائل اوما بھارتی کی طرف سے کل مصالحت کرانے کی کوشش کے بعد آج مرکزی حکومت کی طرف سے کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے پر سپر یم کورٹ میں ظاہر کی گئی آمادگی کی سخت مذمت کرتے ہوئے واٹال ناگراج نے کہا کہ کاویری کرناٹک کی میراث ہے۔اس سلسلے میں مرکزی حکومت فیصلہ لینے والی کون ہوتی ہے؟ ۔